محبت کی حقیقت کیا ہے؟ ایک سائنسی اور فلسفیانہ تجزیہ
تقریباً ہر شخص کو محبت کا تجربہ ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگ ہی اس کی اصل حقیقت و اہمیت سے واقف ہوتے ہیں۔ ہم محبت کیوں کرتے ہیں؟ آئیے سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ محبت کی حقیقت کیا ہے۔ انسانی جبلت میں اس کی اشتراکیت کا کیا عالم ہے؟ یہ انسانی زندگی کا ایک جزوی پہلو کیونکر ساری حیات پر غالب آجاتا ہے؟آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس الفت کے سمندر میں غوطہ زن کرنے کا فیصلہ کرتے وقت چند ساعتیں بھی سوچنا گوارا نہیں کرتے؟ کیا محبت ہماری زندگیوں کو معنی دیتی ہے؟ یا محبت گوشہ تنہائی سے فراغت کے حصول کا ایک کلیہ ہے؟ یا اپنی پریشانیوں اور اکتاہٹ بھری زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ ہے؟کیا یہ جبلت انسانی میں شامل جنسی ہوس کو پورا کرنے کا بہانہ ہے؟ یا یہ فطرت کی بقائے نسل کی ایک رنگین چال ہے؟ یا یہ صرف کیمیکلز اور ہارمونز کا ذہن پہ حملہ ہے جو سوچنے کی صلاحیت کو اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو سلب کر دیتا ہے؟ یا کوئی طلسماتی لہروں کا کمال ہے جو انسان کے شعور پر قابض ہوجاتی ہیں؟

محبت: تاریخ اور ادب کے آئینے میں
کسی نے محبت کو زندگی قرار دیا تو کسی نے اس دنیا کی اساس قرار دیا۔ محبت کی ہزاروں تعریفیں کی گئیں، لاکھوں لوگوں نے اس مقفل باب کو کھولنے کیلئے علمی اور فکری جستجو کی۔ شاعروں نے دن رات محبت کے قصیدے لکھے اور کبھی محبوب کو خدا کے درجے پہ فائز کیا تو کبھی صنم بنا کے اس کو پوجتے رہے۔ کبھی تعریفوں کے پل باندھتے وقت گلشن کے حسن کو ماند قرار دے دیا تو کبھی جبین کی چمک کو ستاروں سے تشبیح دے کر مبالغہ آرائی کی حدیں پار کردیں۔
کبھی رانجھے نے ہیر کیلیئے ساری دنیا ترک کردی تو کبھی مجنوں لیلٰی کی گلی کے کتے کے پاؤں چومتا پایا گیا۔ کبھی فرہاد نے شیریں کی الفت کی خاطر پہاڑ کو چیڑنے کیلیے اپنی ساری زندگی جوکھم میں ڈال دی تو کبھی رام نے سیتا کیلیئے راون کی لنکا ڈھا دی۔ لاکھوں عاشقوں نے اس جذبہِ الفت کے زیرِ اثر موت کو سینے سے لگالیا، ہزاروں لوگ اس الفت کے نشے میں اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے تو لاکھوں لوگ اس شدتِ عاشقی کے باعث دیوانے ہوگئے۔
محبت کی سائنس: پالتو جانور ہماری ذہنی صحت کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
محبت کا سائنسی نظریہ: نیورو سائنس کیا کہتی ہے؟
سائنس نے جہاں طبعی دنیا کے اسرار کو منکشف کیا ہے اور تاریخ کی الجھی ہوئی پہیلیوں کو حل کیا ہے، وہیں غیر مادی قوتوں کے مخرج اور ان کا مادیت سے تعلق سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ جہاں اس نے کششِ ثقل کے قوانین دریافت کیے تو وہیں سائکالوجی اور نیوروسائنس نے انسانی شعور کا احاطہ کیا ہوا ہے۔
نیوروسائنس کے ماہرین محبت کو تین مراحل میں تقسيم کرتے ہیں:
- شہوت (Lust)
- کشش (Attraction)
- بندھن (Attachment)
ان تینوں مراحل میں مختلف کیمیکلز اور مختلف ہارمونز حصہ لیتے ہیں، اور مختلف ہارمونز مختلف احساسات کو جنم دیتے ہیں اور مختلف خواہشات اور جذبوں کے مخرج کا سبب بنتے ہیں۔
پہلا مرحلہ: شہوت (Lust)
شہوت محبت کا پہلا مرحلہ ہے اور جو سیکس ہارمونز Testosterone اور Oestrogen کی وجہ سے مرد و خواتین دونوں میں اجاگر ہوتا ہے۔ اس کا انحصار انسان کے طبعی خدوخال اور جسمانی بناوٹ کا متقاضی ہوتا ہے۔ یہ چہرے کی رعنائی اور آنکھوں پر بھی بڑی حد تک منحصر ہوتا ہے۔ جو لوگ جنسی طور پر زیادہ پرکشش ہوتے ہیں، ان کو دیکھ کے یہ عمل بلاخیز سرعت کے ساتھ آغاز پکڑتا ہے۔
دوسرا مرحلہ: کشش (Attraction)
کسی کی طرف شعوری طور پر توجہ کا مائل ہونا اور گوشہ تنہائی میں اگر آپ کی سوچ کو کسی دلربا کی یاد گھیر لے اور آپ کو اس دلربا کو سوچ کر مسرت و راحت کا احساس ہو تو سمجھیے آپ محبت کے دوسرے مرحلے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ یہ فکری رجوع کی کیفیت، یہ کھینچاؤ اور یہ کششِ لاثانی بھی تین کیمیکلز کی مرہونِ منت ہے:
- Adrenaline
- Dopamine
- Serotonin
ایڈرینا لین (Adrenaline): جب آپ کسی دلربا کی یاد میں محوِ غرق ہوتے ہیں تو اس وقت آپ کے خون میں ایڈرینالین اور کورٹی سول (Cortisol) کا لیول بڑھ جاتا ہے، آپ کی دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور منہ سوکھ جاتا ہے۔
ڈوپامائن (Dopamine): یہ کیمیکل خواہشات کی بیداری کا کام کرتے ہیں۔ جب ڈوپامائن کا لیول بڑھتا ہے تو انسان کو سونے، کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے اور وہ پورے انہماک کے ساتھ اپنی محبت کو گہرائی بخشنے اور مراسم کو مضبوطی دینے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔
سیروٹونین (Serotonin): جذبہِ الفت میں خاصی اہمیت کا حامل یہ کیمیکل آپ کی توجہ کو مکمل آپ کے محبوب کی طرف جھکائے رکھتا ہے۔ آپ اس کو سوچتے ہوئے کبھی درد و الم کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں کہ کہیں وہ آپ کو چھوڑ نہ جائے، تو کبھی آپ اس کو سوچ کر اپنائیت اور خیالی کی ایسی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں جو آپ کو مسرتوں کے گلشن میں لیے اڑتی ہے۔
تیسرا مرحلہ: بندھن (Attachment)
محبت کا آخری مرحلہ جس میں دو پریمی رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں اور اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔ اس مرحلے میں دو اہم کیمیکلز حصہ لیتے ہیں:
آکسی ٹاکسن (Oxytoxcin): اس کا اخراج جنسی عمل کے دوران ہوتا ہے اور یہ اپنائیت اور صدا ساتھ رہنے کے جذبے کا موجد ہے۔ یہی وہ کیمیکل ہے جس کی وجہ سے ماں کا اپنے بچے کے ساتھ بے مثالی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
ویسو پریسن (Vasopressin): اس کیمیکل کا عمل دخل بھی اپنائیت کا احساس دلوانے اور گہرے تعلق کی تعمیر میں رہتا ہے۔ اس کا اخراج بھی جنسی عمل کے دوران ہوتا ہے اور اس سے اجاگر ہونے والے احساسات انسان کو اپنی الفت سے جوڑے رکھتے ہیں۔
محبت کا فلسفہ: عظیم مفکرین کے نظریات
- افلاطون (Plato) کے مطابق: محبت ہمیں مکمل کرتی ہے۔ ان کے مطابق، انسان پہلے چار ہاتھ اور چار ٹانگوں والی مخلوق تھے، جنہیں خدا نے دو حصوں (مرد و عورت) میں تقسیم کردیا۔ تب سے ہر آدھا انسان اپنے دوسرے آدھے پن کو ڈھونڈتا ہے تاکہ وہ پھر سے مکمل ہوسکے۔
- آرتھر شوپنہاور (Arthur Schopenhauer) کے مطابق: محبت کی بنیاد جنسی ضرورت ہے۔ ہم محبت اس لیے کرتے ہیں تاکہ نسل کی افزائش کا سلسلہ چلتا رہے اور محبت میں ملنے والی خوشی ہمیں اس دھوکے میں محو رکھتی ہے۔
- برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) کے مطابق: ہم محبت کی سیڑھی اس لیے چڑھتے ہیں کیونکہ یہ ہماری جسمانی اور نفسیاتی تسکین کا واحد راستہ ہے۔ فطرت نے جنسی عمل میں لذت رکھ دی اور محبت کو بطورِ کشش درمیانی رشتہ بنا دیا تاکہ نسل انسانی کی بقاء رہے۔
- گوتم بدھا (Gautama Buddha) کے مطابق: محبت ایک مضمر دکھ ہے۔ ہم محبت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہماری خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو یہی محبت غم و غصے اور نفرت کا سبب بن جاتی ہے۔
محبت کا نفسیاتی پہلو
نفسیاتی طور پر ہم کبھی بھی اصل شخص سے محبت نہیں کرتے، بلکہ ہم اس شخص کے اس خیالی تصور سے محبت کرتے ہیں جسے ہم نے اپنے ذہن میں تشکیل دیا ہوتا ہے۔ جب وہ اصل انسان ہماری امیدوں اور توقعات پر پورا نہیں اترتا تو ہم اسے بےوفا قرار دے دیتے ہیں، جبکہ اصل میں بےوفا وہ نہیں بلکہ ہماری غیر حقیقی توقعات ہوتی ہیں۔
حرفِ آخر: کیا محبت محض ایک فطرتی نظام ہے؟
اصل میں محبت کا کوئی وجود ہی نہیں، یہ فطرتی پکار پہ لبیک کی صدا کے سوا کچھ نہیں۔ جو روپ اس کا ہمیں نظر آتا ہے یا جو محسوس ہوتا ہے، اس کی اصل وہ نہیں ہے۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے، بقائے نسلِ انسان کے سفر کی ایک لازمی کڑی ہے۔ یہ فطرت کا خلق کیا ہوا ایک نظام ہے جس میں محبت استعمال ہوتی ہے۔
https://psychcentral.com/relationships/the-psychology-of-love
تحریر: اسامہ رضا

